ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / وہاٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی پر سپریم کورٹ کی تنقید،اگلی سماعت 21 جولائی کو ہوگی؛ حکومت یوزرس کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے پرعزم

وہاٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی پر سپریم کورٹ کی تنقید،اگلی سماعت 21 جولائی کو ہوگی؛ حکومت یوزرس کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے پرعزم

Tue, 16 May 2017 22:17:44    S.O. News Service

نئی دہلی، 16/نئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وہاٹس ایپ میں پرائیویسی کی خلاف ورزی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وہاٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی پر تنقید کی۔ جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ کورٹ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہے اور ہم ان حقوق پر حملے نہیں ہونے دیں گے، ہم یہاں ڈیٹا سیکورٹی اتھارٹی ہیں، آپ ہندوستانی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے ہیں۔اس مسئلے پر آج منگل کو سماعت کے دوسرے دن وہاٹس یپ کی جانب سے سینئر وکیل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ ذاتی معلومات اور حساس ذاتی معلومات میں فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی معلومات کا استعمال کسی کی شناخت کے لئے ہوتا ہے جبکہ حساس ذاتی معلومات میں میڈیکل رپورٹ، بایومیٹرک، جنسی معلومات کا انکشاف ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاٹس ایپ حساس ذاتی معلومات کو محفوظ نہیں کرتا بلکہ صرف ذاتی معلومات پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاٹس ایپ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ (آئی ٹی ایکٹ) کے تحت ہی کام کرتا ہے جس میں ذاتی معلومات کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاٹس ایپ لاکھوں حساس ذاتی معلومات کا استعمال نہیں کرتا ہے۔

انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کی جانب سے کیوی وشوناتھن نے کہا کہ وہاٹس یپ اور فیس بک یوزرس کا کولیٹیڈ میٹا ڈیٹا تیار کرتے ہیں جو کہ آئی ٹی ایکٹ کے فریم میں نہیں آتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل مادھوی دیوان نے کہا کہ مرکزی حکومت اس سلسلے میں وضاحت دے چکی ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ فکشننگ پر لاگو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہاٹس ایپ اور فیس بک ڈیٹا کے اتھارٹی نہیں ہیں۔

مرکز کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ مرکزی حکومت یوزرس کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پر کوئی بحث نہیں کریں گے کہ پٹیشن سماعت کے قابل ہے یا نہیں۔ جب وینو گوپال نے کورٹ میں یہ سوال اٹھایا کہ یہ پٹیشن سماعت کے قابل نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی عوامی مفاد منسلک نہیں ہے۔ اس کی مادھوی دیوان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میسج ذاتی ہوں لیکن یہ پلیٹ فارم پبلک یوٹلٹی کی طرح ہے۔ جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ یہ پٹیشن سماعت کے قابل ہے اور یہ کہہ کر اسے چیلنج نہیں دیا جا سکتا ہے کہ یہ دو پرائیویٹ لوگوں کے درمیان بات چیت ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے پر اگلی سماعت 21 جولائی کو ہوگی۔


Share: